اسگند (اشوگندھا) کے طبی فوائد

اسگند (اشوگندھا) کے طبی فوائد


طبِ یونانی میں اسگند کا استعمال، مزاج اور صحت کے فائدے

اسگند ایک معروف ہربل دوا ہے جو طبِ یونانی اور روایتی طب میں صدیوں سے استعمال ہو رہی ہے۔ اسے جسمانی طاقت بڑھانے، اعصاب کو مضبوط بنانے اور مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسگند کو خاص طور پر مقوی باہ، اعصاب کی طاقت اور جسمانی کمزوری دور کرنے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔

قدیم اطباء کے مطابق اسگند جسم کو طاقت فراہم کرتی ہے اور اعصابی کمزوری کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔


ماہیت

اسگند ایک درمیانے قد کا پودا ہوتا ہے جس کی اونچائی عموماً ایک گز تک ہو سکتی ہے۔

اس کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • اس کے پتے بیضوی اور نوکدار ہوتے ہیں
  • اس کا پھل گول اور کاکنج کے مشابہ ہوتا ہے
  • پھل ایک باریک پردے میں محفوظ ہوتا ہے
  • پکنے کے بعد یہ پردہ زرد رنگ کا ہو جاتا ہے
  • اس کے اندر چھوٹے بیج موجود ہوتے ہیں

اسگند کی جڑ باریک ہوتی ہے اور اس کا رنگ اندر اور باہر سے سفید مائل زردی ہوتا ہے۔


حصص مستعملہ

اسگند میں درج ذیل حصے زیادہ استعمال ہوتے ہیں:

  • جڑ (سب سے زیادہ استعمال ہونے والا حصہ)
  • تازہ پتے

طبِ یونانی میں اسگند کی جڑ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔


مقام پیدائش

اسگند پاکستان کے مختلف علاقوں میں پیدا ہوتی ہے۔

خصوصاً:

  • پنجاب کے دیہاتی علاقوں میں
  • خندقوں اور ویران جگہوں پر
  • قبرستانوں کے ارد گرد

یہ پودا زیادہ تر جنگلی طور پر اگتا ہے۔


مزاج

طبِ یونانی کے مطابق اسگند کا مزاج:

  • گرم درجہ اول
  • خشک درجہ دوم

یہ مزاج جسم میں حرارت پیدا کرنے اور سردی سے پیدا ہونے والے امراض کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔


اہم طبی افعال

اسگند میں کئی اہم طبی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

اہم افعال:

  • مبہی
  • مقوی باہ
  • مولد منی
  • مغلظ منی
  • مقوی رحم
  • محلل ورم

یہ خصوصیات اسگند کو طبِ یونانی کی ایک اہم جڑی بوٹی بناتی ہیں۔


اسگند کے طبی فوائد

1. مردانہ طاقت میں اضافہ

اسگند کو خاص طور پر تقویتِ باہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ منی کی پیداوار اور گاڑھا پن بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔

اسی وجہ سے اسے درج ذیل مسائل میں استعمال کیا جاتا ہے:

  • جریان منی
  • ضعف باہ
  • اعصابی کمزوری

2. اعصاب کو مضبوط کرنا

اسگند اعصاب کو طاقت فراہم کرتی ہے اور اعصابی کمزوری کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔

یہ خاص طور پر برودت اعصاب میں مفید سمجھی جاتی ہے۔


3. رحم کو طاقت دینا

طبِ یونانی میں اسگند کو مقوی رحم سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے وضع حمل کے بعد خواتین کو دیا جاتا ہے تاکہ جسم کو طاقت مل سکے۔


4. جوڑوں اور ورم میں فائدہ

اسگند کے تازہ پتے نیم گرم کر کے جوڑوں کے درد، ورم اور سوجن پر باندھے جاتے ہیں۔

یہ ورم کو تحلیل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔


5. پستانوں کو مضبوط کرنا

اسگند کو دودھ میں پیس کر پستانوں پر بطور طلاء استعمال کیا جاتا ہے جس سے ڈھیلے پستانوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔


نفع خاص

اسگند کا خاص فائدہ:

مقوی باہ اور اعصاب کو طاقت دینا

اسی وجہ سے اسے جریان اور اعصابی کمزوری میں مفید سمجھا جاتا ہے۔


مصلح

اسگند کے مضر اثرات کم کرنے کے لیے درج ذیل چیزیں استعمال کی جاتی ہیں:

  • گوند کتیرا

بدل

اگر اسگند دستیاب نہ ہو تو اس کے متبادل کے طور پر:

  • بہمن سفید

استعمال کیا جا سکتا ہے۔


مقدار خوراک

اسگند کی مناسب مقدار:

3 ماشہ سے 5 ماشہ تک

دوا کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے کسی ماہر طبیب سے مشورہ کرنا بہتر ہوتا ہے۔


جدید تحقیقات

کیمیائی تجزیہ کے مطابق اسگند میں درج ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں:

  • روغن
  • قلم دار الکوحل
  • نشاستہ
  • فعال جز Somniferin

یہ اجزاء جسم پر مختلف طبی اثرات پیدا کرتے ہیں۔


مشہور مرکبات

طبِ یونانی میں اسگند درج ذیل مرکبات میں استعمال ہوتی ہے:

  • معجون مقوی رحم

خلاصہ

اسگند ایک اہم ہربل دوا ہے جو طبِ یونانی میں مردانہ طاقت بڑھانے، اعصاب کو مضبوط بنانے اور جسمانی کمزوری دور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ رحم کو طاقت دینے اور جوڑوں کے درد میں بھی مفید سمجھی جاتی ہے۔

تاہم اسے مناسب مقدار میں اور طبی مشورے کے مطابق استعمال کرنا ضروری ہے۔

Main Image Cover Image

Comment (0)

    No comments found.

Post a comment