ابریشم (Silk Cones): ایک مکمل طبی انسائیکلوپیڈیا
ابریشم (Silk Cones): ایک مکمل طبی انسائیکلوپیڈیا
ابریشم صرف ایک دھاگہ نہیں بلکہ قدرت کی عطا کردہ ایک ایسی شفا ہے جس کا ذکر صدیوں سے طبِ یونانی کی مستند کتابوں میں ملتا ہے۔ ذیل میں آپ کے فراہم کردہ ہر نکتے کی تفصیلی وضاحت دی گئی ہے:
1. ابریشم کی حقیقت اور ماہیت (Nature & Origin)
ابریشم کا سفر ایک ننھے سے کیڑے سے شروع ہوتا ہے جسے سائنسی زبان میں Bombyx Mori کہتے ہیں۔
- تخلیق کا عمل: یہ کیڑا اپنی زندگی کے ایک مرحلے پر اپنے منہ سے ایک لیس دار مادہ (لعاب) نکالتا ہے، جو ہوا لگتے ہی سخت دھاگے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ کیڑا اس دھاگے کو اپنے گرد لپیٹ کر ایک گھر بنا لیتا ہے جسے کوکون (Cocoon) یا ابریشم خاص کہتے ہیں۔
- ابریشم مقرض: دوا سازی میں اسے استعمال کرنے کے لیے کوکون کو قینچی سے باریک کتر لیا جاتا ہے، اس عمل کو "مقرض" (کترا ہوا) کہتے ہیں۔
- اہم نکتہ: کپڑا بننے کے لیے جب اس کوکون کو گرم پانی میں ڈال کر اس کا گوند (Sericin) نکال دیا جاتا ہے، تو اس کی طبی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے دوا میں ہمیشہ خام (Raw) ریشم ہی کام آتا ہے۔
2. مزاج اور طبی افعال (Temperament & Actions)
طبِ یونانی میں کسی بھی دوا کا اثر اس کے مزاج سے ناپا جاتا ہے۔
- مزاج: اس کا مزاج گرم اور خشک ہے۔ یہ جسم میں حرارت پیدا کرتا ہے اور زائد رطوبتوں کو خشک کرتا ہے۔
- مفرح (Exhilarant): یہ روحِ حیوانی اور روحِ نفسانی کو طاقت دیتا ہے، جس سے انسان کو خوشی اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔
- ملطف: یہ جسم کے اندر جمے ہوئے گاڑھے مادوں کو رقیق (پتلا) کر کے ان کے اخراج کا راستہ ہموار کرتا ہے۔
3. نظامِ تنفس کی شفا (Respiratory Benefits)
پھیپھڑوں کے امراض میں ابریشم کو "دوائے خاص" کا درجہ حاصل ہے:
- بلغم کا اخراج: جب نزلہ یا زکام پرانا ہو جائے اور بلغم پھیپھڑوں میں جم جائے (Chronic Bronchitis)، تو ابریشم اپنی "ملطف" خاصیت کی وجہ سے اس بلغم کو اکھاڑتا ہے اور کھانسی کے ذریعے باہر نکالتا ہے۔
- دمہ (Asthma): تنگیِ تنفس کے مریضوں کے لیے یہ سانس کی نالیوں کی سوزش کم کر کے سانس لینا آسان بناتا ہے۔
4. قلب اور دماغ کا محافظ (Heart & Brain Tonic)
جدید دور کی ذہنی پریشانیوں کے لیے ابریشم ایک قدرتی ڈھال ہے:
- تقویتِ قلب: یہ دل کے پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے اور دل کی دھڑکن (Palpitation) کو اعتدال پر لاتا ہے۔
- ذہنی سکون: وسوسے، خوف، اور بے جا پریشانی (Anxiety) کو دور کرنے کے لیے اسے خاص طور پر خمیروں کی شکل میں استعمال کرایا جاتا ہے۔
5. امراضِ چشم اور ابریشم محرق (Eye Care)
جب ابریشم کو مخصوص طریقے سے جلایا جاتا ہے تو اسے ابریشم محرق کہتے ہیں۔
- سرمہ کا نعم البدل: اس کی راکھ کو آنکھوں میں لگانے سے آنکھوں کی لالی، دھند اور جالا ختم ہوتا ہے۔
- زخموں کا علاج: آنکھ کے اندرونی زخموں (Ulcers) کو بھرنے کے لیے اس کی جالی (صفائی کرنے والی) صفت بہت مفید ہے۔
6. جدید سائنسی تحقیق (Modern Scientific View)
آج کی سائنس بتاتی ہے کہ ابریشم میں موجود Fibroin اور Sericin پروٹینز انسانی جسم کے لیے حیرت انگیز ہیں۔
- بلڈ پریشر: یہ شریانوں کی سختی (Arteriosclerosis) کو کم کرتا ہے، جس سے خون کا دباؤ نارمل رہتا ہے۔
- اجزاء: اس میں موجود امینو ایسڈز انسانی خلیات کی مرمت کرتے ہیں، جبکہ وٹامن بی کمپلیکس اعصاب کو توانائی بخشتا ہے۔
7. مقدار اور احتیاط (Dosage & Safety)
- مقدار: عام طور پر 3 سے 5 گرام تک دی جاتی ہے۔
- گردوں کا تحفظ: چونکہ یہ خشک مزاج ہے، اس لیے گردوں کے لیے بوجھ بن سکتا ہے۔ اس کے لیے حکماء اسارون (ایک بوٹی) شامل کرتے ہیں تاکہ گردوں پر منفی اثر نہ ہو۔
- بدل: اگر ابریشم نہ ملے تو گائوزبان کے پتے یا پھول وہی طبی فوائد (دل و دماغ کی فرحت) فراہم کر سکتے ہیں۔
خلاصہ کلام
ابریشم محض ایک لباس نہیں بلکہ ایک مکمل علاج ہے۔ چاہے وہ خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا کی صورت میں دل کو زندگی بخشنا ہو یا سرمہ کی صورت میں آنکھوں کو روشنی دینا، یہ قدرت کا وہ شاہکار ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔
No comments found.