اروی (قلقاس) اور ارہر کے طبی فوائد
طبِ یونانی میں استعمال، مزاج، فائدے اور احتیاطی تدابیر
طبِ یونانی میں بہت سی غذائیں ایسی ہیں جو صرف کھانے کے لیے نہیں بلکہ علاج کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہیں۔ انہی میں دو اہم غذائیں اروی (قلقاس) اور ارہر ہیں۔ یہ دونوں پودے صدیوں سے یونانی اور روایتی طب میں استعمال ہو رہے ہیں۔
درست طریقے اور مناسب مقدار میں استعمال کرنے سے یہ جسم کو طاقت، غذائیت اور کئی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، جبکہ زیادہ یا غلط استعمال بعض مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس مضمون میں ان دونوں اجزاء کی ماہیت، مزاج، افعال، فوائد، مضر اثرات اور استعمال کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو مکمل رہنمائی حاصل ہو سکے۔
اروی (قلقاس) کیا ہے؟
اروی ایک مشہور جڑ والی سبزی ہے جو دنیا کے کئی ممالک میں بطور خوراک استعمال ہوتی ہے۔ اسے عام طور پر سالن یا سبزی کی شکل میں پکایا جاتا ہے۔ کچالو بھی اسی خاندان کی ایک قسم ہے۔
مختلف زبانوں میں نام
- فارسی: قلقاس
- ہندی: گھیاں
- عربی: قبقاس (بعض اطباء کے مطابق)
- انگریزی: Taro Root
طبِ یونانی میں اروی کو غذائی اور طبی دونوں اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس میں غذائیت اور خاص قسم کی لزوجیت پائی جاتی ہے جو جسم کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔
اروی کا مزاج
یونانی طب کے مطابق ہر غذا اور دوا کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے۔
اروی کا مزاج:
- سرد درجہ دوم
- خشک درجہ اول
یہ مزاج جسم میں گرمی کو معتدل کرنے اور رطوبت کو متوازن رکھنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔
اروی کے اہم طبی افعال
اروی کو طبِ یونانی میں درج ذیل طبی خصوصیات کی وجہ سے استعمال کیا جاتا ہے:
- مولد منی — منی کی افزائش میں مدد دیتی ہے
- مغلظ منی — منی کو گاڑھا کرنے میں معاون
- مسمن بدن — جسم کو فربہ اور طاقتور بناتی ہے
- مقوی جسم — عمومی جسمانی قوت کو بڑھاتی ہے
یہی وجہ ہے کہ کمزوری یا غذائی قلت کے شکار افراد کے لیے اروی مفید سمجھی جاتی ہے۔
اروی کا استعمال
اروی کو دو بنیادی طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔
1. بطور غذا
اروی زیادہ تر سبزی یا سالن کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔
عام استعمال کے طریقے:
- اروی کو مصالحوں کے ساتھ پکا کر کھایا جاتا ہے
- بعض لوگ اسے گوشت کے ساتھ ملا کر پکاتے ہیں
- بعض علاقوں میں اسے تلی ہوئی شکل میں بھی کھایا جاتا ہے
2. بطور دوا
بعض اطباء اروی کو سفوف (پاؤڈر) کی شکل میں بھی استعمال کرواتے ہیں تاکہ اس کے طبی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔
اروی کے طبی فوائد
اروی میں موجود غذائیت اور لزوجیت کی وجہ سے یہ کئی بیماریوں میں فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔
1. کھانسی میں فائدہ
اروی کی لزوجیت گلے اور سانس کی نالی کو نرم کرتی ہے جس سے خشک کھانسی میں آرام مل سکتا ہے۔
2. آنتوں کی خراش میں مفید
یہ آنتوں کی سوزش یا خراش (سحج امعاء) میں مفید سمجھی جاتی ہے۔
3. جسمانی کمزوری میں فائدہ
اروی جسم کو توانائی اور غذائیت فراہم کرتی ہے جس سے کمزوری کم ہو سکتی ہے۔
4. وزن بڑھانے میں مددگار
یہ جسم کو فربہ بنانے میں معاون ہے اور دبلا پن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
اروی کے مضر اثرات
اگر اروی کو زیادہ مقدار میں کھایا جائے تو کچھ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
- معدہ میں گیس یا نفخ
- دیر سے ہضم ہونا
- بلغم پیدا ہونا
- معدہ میں بھاری پن
اسی لیے اسے مناسب مقدار میں استعمال کرنا ضروری ہے۔
اروی کا مصلح
یونانی طب میں مصلح وہ چیز ہوتی ہے جو کسی غذا کے مضر اثرات کو کم کرتی ہے۔
اروی کے مصلح:
- دار چینی
- لونگ
ان چیزوں کے ساتھ استعمال کرنے سے اروی کے مضر اثرات کم ہو سکتے ہیں۔
اروی کا بدل
اگر اروی دستیاب نہ ہو تو اس کے متبادل کے طور پر:
- بھنڈی استعمال کی جا سکتی ہے۔
اروی کی مقدار خوراک
بطور دوا:
5 ماشہ سے 7 ماشہ تک
ارہر کیا ہے؟
ارہر ایک مشہور دال ہے جو جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ اسے عام طور پر دال کی شکل میں پکا کر کھایا جاتا ہے۔
یہ غذائیت کے ساتھ ساتھ طبِ یونانی میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
ارہر کے مختلف نام
مختلف علاقوں میں ارہر کو مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے:
- عربی: Cangopea
- فارسی: شقاقل
- سندھی: تو
- گجراتی: ڈنکری
- کناری: توگری
ارہر کا مزاج
یونانی طب کے مطابق ارہر کا مزاج:
- سرد درجہ اول
- خشک درجہ دوم
ارہر کے طبی افعال
ارہر میں چند اہم طبی خصوصیات پائی جاتی ہیں:
- نفاخ (گیس پیدا کرنے والی)
- قابض (باندھنے والی)
- مبخر (بھاپ یا بخارات پیدا کرنے والی)
ارہر کے طبی استعمال
ارہر صرف غذا نہیں بلکہ مختلف بیماریوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
1. چیچک کے دانوں کے لیے
ارہر کی پھلیوں کا پانی نچوڑ کر چیچک کے دانوں پر لگایا جاتا ہے۔
2. زہر افیون کے اثرات میں
بعض اطباء کے مطابق ارہر زہر افیون کے اثر کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
3. بالخورہ (گنج پن) کے لیے
ارہر کی دال پانی میں پیس کر متاثرہ جگہ پر لگائی جاتی ہے۔
اس کے بعد سرسوں کا تیل لگا کر دھوپ میں بیٹھنے سے بال دوبارہ اگنے میں مدد مل سکتی ہے۔
4. بواسیر کے لیے
ارہر کے پتے اور نیم کے پتے پیس کر پینے سے بواسیر میں فائدہ بتایا جاتا ہے۔
5. پھوڑے اور ورم
ارہر کے پتے پیس کر پھوڑوں اور سوجن پر ضماد کے طور پر لگائے جاتے ہیں۔
ارہر کے خاص فوائد
ارہر کو خاص طور پر:
بواسیر کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
ارہر کے مضر اثرات
زیادہ استعمال سے یہ مسائل ہو سکتے ہیں:
- دیر ہضم ہونا
- گیس یا تبخیر
ارہر کا مصلح
ارہر کے مضر اثرات کم کرنے کے لیے:
- کھٹی یا ترش اشیاء استعمال کی جاتی ہیں۔
ارہر کی مشابہ غذا
طبِ یونانی میں مسور (عدس) کو اس کے مشابہ سمجھا جاتا ہے۔
خلاصہ
اروی (قلقاس) اور ارہر دونوں غذائیں عام طور پر کھانے میں استعمال ہوتی ہیں لیکن طبِ یونانی میں ان کی طبی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔
اروی جسم کو طاقت اور غذائیت فراہم کرتی ہے جبکہ ارہر کئی جلدی اور داخلی مسائل میں استعمال ہوتی ہے۔ تاہم ان دونوں کو مناسب مقدار اور مصلح کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ مضر اثرات سے بچا جا سکے۔
No comments found.