🥔 آلو — مکمل تعارف، غذائی اہمیت اور یونانی نقطۂ نظر سے فوائد
تعارف
آلو ایک عام مگر نہایت اہم غذائی سبزی ہے جو دنیا بھر میں بطور خوراک اور بطور قدرتی علاج استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا شمار ایسی غذاؤں میں ہوتا ہے جو توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی نشوونما، قوتِ مدافعت اور مجموعی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ برصغیر میں آلو کو روزمرہ کھانوں کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ یونانی طب میں اسے ایک خاص مزاج اور افعال کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
مختلف زبانوں میں نام
آلو کو مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے:
- اردو / گجراتی: آلو
- انگریزی: Potato
- سندھی: پوٹاٹا
مزاج (Unani Perspective)
یونانی طب کے مطابق آلو کا مزاج سرد و خشک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جسم میں حرارت کو کم کرنے اور خشکی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے بعض مزاج رکھنے والے افراد کے لیے اس کا زیادہ استعمال مناسب نہیں سمجھا جاتا، خاص طور پر وہ لوگ جنہیں پہلے ہی قبض یا پیٹ میں نفخ کی شکایت رہتی ہو۔
غذائی اجزاء اور کیمیائی ساخت
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق آلو میں کئی اہم معدنیات اور وٹامنز پائے جاتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
- پوٹاشیم (Potassium) — دل اور پٹھوں کی کارکردگی کے لیے مفید
- کیلشیم (Calcium) — ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ضروری
- فاسفورس (Phosphorus) — توانائی کے نظام میں اہم کردار
- میگنیشیم، سوڈیم، کلورین، آیوڈین — خفیف مگر مفید مقدار میں
- وٹامن A، B اور C — قوتِ مدافعت اور جلد کی صحت کے لیے فائدہ مند
آلو میں نشاستہ (Starch) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو جسم کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ اس میں اجزائے لحمیہ (Proteins) کم ہوتے ہیں، لیکن کاربوہائیڈریٹس کی موجودگی اسے بچوں اور کمزور افراد کے لیے توانائی بخش غذا بناتی ہے۔
طبی فوائد (Traditional & Herbal Use)
یونانی اور روایتی طب میں آلو کو صرف خوراک ہی نہیں بلکہ ایک قدرتی علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے:
- زخم اور جلنے پر استعمال: آلو کا تازہ رس یا پیس کر بنائی گئی لیپ (ضماد) جلنے یا زخم پر لگانے سے فوری ٹھنڈک اور سکون محسوس ہوتا ہے، اور زخم جلد خشک ہونے میں مدد ملتی ہے۔
- جسمانی کمزوری میں فائدہ: نشاستہ اور معدنیات کی وجہ سے یہ جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔
- بچوں کی نشوونما: مناسب مقدار میں استعمال بچوں کی جسمانی بڑھوتری کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
استعمال کا طریقہ
آلو کو عام طور پر سبزی یا گوشت کے ساتھ پکا کر بطور خوراک استعمال کیا جاتا ہے۔ یونانی اصولوں کے مطابق:
- چھلکے سمیت پکائے گئے آلو میں وٹامنز کم ضائع ہوتے ہیں۔
- زیادہ مقدار میں استعمال قبض اور پیٹ میں نفخ پیدا کر سکتا ہے۔
- اعتدال کے ساتھ نمک کا استعمال اس کے مضر اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
مقدار اور احتیاط
ماہرین کے مطابق ایک بالغ فرد کو دن میں تقریباً 250 گرام سے زیادہ آلو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ زیادہ مقدار میں استعمال پیٹ میں گیس، بھاری پن اور قبض کی شکایت پیدا کر سکتا ہے۔ جن افراد کا مزاج پہلے ہی سرد ہو، انہیں خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے۔
جدید تحقیق اور روایتی علم کا امتزاج
آج کی جدید غذائی سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ آلو ایک سستی، دستیاب اور غذائیت سے بھرپور غذا ہے۔ جب اسے یونانی طب کے اصولوں کے مطابق اعتدال میں استعمال کیا جائے تو یہ صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آلو کو صرف ایک سبزی نہیں بلکہ ایک قدرتی غذائی ذریعہ اور سادہ گھریلو علاج بھی کہا جا سکتا ہے۔
No comments found.