اطریالل (Common Water Crowfoot) – ایک قدرتی جڑی بوٹی کی مکمل رہنمائی

اطریالل (Common Water Crowfoot) – ایک قدرتی جڑی بوٹی کی مکمل رہنمائی


اطریالل (Common Water Crowfoot): ماہیت، مزاج اور فوائد پر مکمل تحقیقی بلاگ


https://hakeems.pk/user/index.php


بلاگ کی مختصر تفصیل


اطریالل یا Common Water Crowfoot ایک قدرتی آبی جڑی بوٹی ہے جو برص، بہق اور دیگر جلدی امراض کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس بلاگ میں اس کی ماہیت، مزاج، افعال اور استعمال کے مکمل فوائد جانیں۔




تعارف


اطریالل جسے انگریزی میں Common Water Crowfoot اور لاطینی میں Ranunculus Aquatilis کہا جاتا ہے، ایک قدرتی آبی جڑی بوٹی ہے جو زیادہ تر پانی میں یا نم زمین پر اگتی ہے۔ یہ پودا بظاہر سوئے (ڈل) کے پودے سے مشابہ ہوتا ہے، مگر اس کے پھول سفید رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ سوئے کے پھول زرد ہوتے ہیں۔ طبِ یونانی میں اطریالل کو ایک اہم دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، خاص طور پر جلدی امراض کے لیے۔



https://hakeems.pk/user/index.php


ماہیت (Nature & Identification)


اطریالل ایک نرم، نازک اور باریک پتوں والی آبی جڑی بوٹی ہے جو عموماً صاف پانی کی سطح پر یا اس کے اندر جڑیں جما کر نشوونما پاتی ہے۔ یہ پودا تالابوں، ندی نالوں اور دلدلی علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں پانی کی روانی ہلکی اور ماحول مرطوب ہو۔ اس کی شاخیں باریک اور پھیلاؤ لیے ہوتی ہیں جو پانی میں تیرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ پودا نہایت دلکش اور فطری حسن کا حامل نظر آتا ہے۔

  • پھول: اطریالل کے پھول سفید رنگ کے، چھوٹے مگر نہایت خوبصورت ہوتے ہیں۔ یہ عموماً موسمِ بہار اور گرمیوں کے آغاز میں کھلتے ہیں اور ان کے درمیان ہلکی سی زردی مائل آنکھ (center) پائی جاتی ہے جو انہیں مزید نمایاں بناتی ہے۔ یہ پھول پودے کی شناخت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
  • تخم: اس کے تخم سرخی مائل سیاہ رنگ کے ہوتے ہیں، جو دیکھنے میں سونف یا انیسون کے دانوں سے مشابہ نظر آتے ہیں۔ یہ تخم سخت ہوتے ہیں اور ان میں طبی خصوصیات زیادہ پائی جاتی ہیں، اسی لیے طبِ یونانی میں انہی کو بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔
  • ذائقہ: اطریالل کے تخم کا ذائقہ تلخ اور قدرے تیز ہوتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ جسم میں فاسد مادوں کو تحلیل کرنے اور صفائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • استعمال شدہ حصہ: زیادہ تر اطریالل کے تخم کو سفوف، مرہم یا لیپ کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے، تاہم بعض اوقات اس کے پتوں کا بھی محدود استعمال کیا جاتا ہے۔

کچھ قدیم حکما نے اطریالل کو "مستی گھاس" کے ہم معنی قرار دیا ہے، مگر جدید تحقیق اور تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں کی ماہیت، ساخت اور طبی اثرات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر جلدی امراض جیسے برص اور بہق کے علاج میں اطریالل کی تاثیر کو زیادہ مؤثر اور قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔



https://hakeems.pk/user/index.php



مزاج (Temperament)


اطریالل کا مزاج طبِ یونانی کے مطابق درج ذیل ہے:

  • گرم: یہ جسم میں حرارت پیدا کر کے سرد مزاجی سے پیدا ہونے والے امراض میں فائدہ دیتا ہے۔
  • خشک: فاسد رطوبتوں اور اضافی نمی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
  • درجہ: دوم، یعنی اس کی تاثیر معتدل سے قدرے زیادہ ہوتی ہے، اس لیے اسے احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ مزاج اطریالل کو اس قابل بناتا ہے کہ یہ جسم میں جمع شدہ فاسد مادوں کو تحلیل کرے، جلد کے اندرونی نظام کو متحرک کرے اور خون کی گردش کو بہتر بنائے۔ اسی وجہ سے یہ جلدی امراض اور بعض پرانے داغ دھبوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔




https://hakeems.pk/user/index.php



افعال (Medicinal Actions)


اطریالل کے اہم طبی افعال درج ذیل ہیں، جو اسے ایک قیمتی جڑی بوٹی بناتے ہیں:

  • جالی: اطریالل جلد کی صفائی کرتا ہے، مردہ خلیات کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے اور جلد کو شفاف، صاف اور تروتازہ بناتا ہے۔ اسی لیے اسے داغ دھبے اور جلد کی رنگت بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
  • محلل: یہ جسم اور جلد میں موجود ورم، سوجن اور فاسد مادوں کو تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پرانے زخموں یا سخت گلٹیوں پر اس کا لیپ مفید سمجھا جاتا ہے۔
  • کاسرِ ریاح: اطریالل پیٹ اور جسم میں جمع ہونے والی ہوا اور گیس کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے بھاری پن اور بے چینی میں کمی آتی ہے۔

قدیم طبی کتب میں برص (سفید داغ) اور بہق (جلدی داغ دھبے) کے علاج کے لیے اطریالل کے حیرت انگیز اثرات کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ حکما کے مطابق باقاعدہ اور درست طریقے سے استعمال کرنے پر یہ جلد کی صحت بحال کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔




https://hakeems.pk/user/index.php



مزاج (Temperament)

اطریالل کا مزاج طبِ یونانی کے مطابق:

  • گرم
  • خشک
  • درجہ: دوم

یہ مزاج اسے جسم میں رطوبتوں کو خشک کرنے اور فاسد مادوں کو تحلیل کرنے کے قابل بناتا ہے۔




https://hakeems.pk/user/index.php



افعال (Medicinal Actions)


اطریالل کے اہم طبی افعال درج ذیل ہیں:

  • جالی: جلد کو صاف اور شفاف بنانے والا
  • محلل: ورم اور فاسد مادوں کو تحلیل کرنے والا
  • کاسرِ ریاح: جسم میں موجود ہوا اور گیس کو توڑنے والا

قدیم طبی کتب میں برص (سفید داغ) اور بہق (جلدی داغ دھبے) کے علاج میں اطریالل کے حیرت انگیز اثرات کا ذکر ملتا ہے۔




https://hakeems.pk/user/index.php



استعمال (Uses)


اطریالل کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے:

  1. برص اور بہق کے لیے: اس کے تخم پیس کر مرہم یا سفوف کی صورت میں متاثرہ جگہ پر لگائے جاتے ہیں۔
  2. جلدی امراض: جلد کی صفائی اور داغ دھبے کم کرنے کے لیے اس کا لیپ بنایا جاتا ہے۔
  3. ہاضمے کے لیے: محدود مقدار میں استعمال سے پیٹ کی گیس اور بھاری پن میں کمی آ سکتی ہے۔
نوٹ: کسی بھی جڑی بوٹی کے استعمال سے پہلے ماہر حکیم یا ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔



https://hakeems.pk/user/index.php


احتیاطی تدابیر


  • زیادہ مقدار میں استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے
  • حساس جلد پر لگانے سے پہلے ٹیسٹ کریں
  • حاملہ خواتین استعمال سے پرہیز کریں


https://hakeems.pk/user/index.php


نتیجہ

اطریالل ایک قدیم اور مفید جڑی بوٹی ہے جو خاص طور پر جلدی امراض میں اپنی مثال آپ رکھتی ہے۔ درست طریقے اور مناسب مقدار میں استعمال سے یہ صحت کے لیے بہترین قدرتی علاج ثابت ہو سکتی ہے۔

Main Image Cover Image

Comment (0)

    No comments found.

Post a comment