آبنوس

 آبنوس

انگریزی: Ebony

عربی و فارسی: آبنوس

مختصر تعارف

آبنوس ایک عظیم الشان اور قیمتی درخت ہے۔ اس کے پتے صنوبر کے پتوں سے مشابہ مگر قدرے چوڑے ہوتے ہیں۔ اس کا پھل انگور کے مانند زردی اور سرخی مائل ہوتا ہے، ذائقہ نہایت کسیلا اور ہلکا سا شیریں ہوتا ہے۔ اس کے تخم اور پھول حنا کے تخم اور پھولوں سے مشابہ ہیں۔ آبنوس کی لکڑی وزنی اور گہرے سیاہ رنگ کی ہوتی ہے، حتیٰ کہ اندر سے بھی سیاہ ہی نکلتی ہے، اور یہی لکڑی طب میں بطور دوا مستعمل ہے۔

مقام پیدائش

ہندوستان، زنجبار اور افریقہ۔

مزاج

گرم و خشک بدرجہ دوم، مع جوہر قابض۔

افعال و خواص

آبنوس ملطف، مجفف، محلل، جالی، قابض اور حابس ہے۔ یہ نزف الدم کو روکتا ہے اور خون کو صاف کرنے میں مددگار ہے۔ تصفیہ خون کے لیے اس کا برادہ بکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ مجفف اور جالی ہونے کی وجہ سے باریک پیس کر قروحِ خبیثہ پر لگایا جاتا ہے، جس سے زخم خشک ہوتے اور خون کا بہاؤ رک جاتا ہے۔

استعمالات

آبنوس کو سرمہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو مقویِ چشم ہے۔ سلک اور دیگر امراضِ چشم میں نافع ہے۔ پتھر پر گھس کر آنکھ میں لگانے سے جالا، پھولا، قروحِ چشم، مکۃِ چشم، دمعہ، شب کوری اور ضعفِ بصر میں فائدہ ہوتا ہے۔

نفع خاص

تصفیہ خون کے لیے آبنوس کا برادہ نہایت مفید سمجھا جاتا ہے۔

مضر و مصلح

کچھ مزاجوں کے لیے مضر ہو سکتا ہے، اس کا مصلح شہد ہے۔

بدل

برادہ شیشم۔

مقدار خوراک

پانچ ماشہ سے سات ماشہ تک۔

Main Image Cover Image

Comment (0)

    No comments found.

Post a comment