(Part-2) آکھ (Calotropis) — مکمل مگر مختصر طبی و یونانی خلاصہ
مقامِ پیدائش:
آکھ ایک معروف خودرو پودا ہے جو پاکستان، ہندوستان، سری لنکا، افغانستان، ایران اور افریقہ کے گرم و خشک علاقوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر بنجر زمین، سڑکوں کے کنارے اور نیم صحرائی علاقوں میں نشوونما پاتا ہے۔ طبِ یونانی میں آکھ کو ایک طاقتور دوا کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور صدیوں سے مختلف بلغمی، جلدی اور جوڑوں کے امراض میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
اقسام:
https://hakeems.pk/user/index.php
آکھ کی بنیادی طور پر دو نمایاں اقسام بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی وہ قسم ہے جس کا دودھ نہایت تیز، کاٹ دار اور زیادہ مؤثر ہوتا ہے، اسی قسم کو زیادہ تر طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری قسم میں پھول عموماً سفید ہوتے ہیں اور اس کا پھل ہلکے بسنتی یا سفیدی مائل رنگ کا ہوتا ہے، جس کا اثر نسبتاً کم مگر مزاج میں قریب قریب ہوتا ہے۔
مزاج:
https://hakeems.pk/user/index.php
طبِ یونانی کے مطابق آکھ کا دودھ چوتھے درجے میں گرم و خشک ہوتا ہے، یعنی اس کا اثر نہایت تیز اور قوی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اس کے پتے، شاخیں، جڑ اور پھول تیسرے درجے میں گرم و خشک شمار کیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آکھ کو بلغمی امراض میں خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ فاسد رطوبتوں کو تحلیل اور خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔
افعال و اثرات:
https://hakeems.pk/user/index.php
آکھ کا دودھ اکّال، مقرّح، مسہلِ قوی، مقی اور معطس ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زخم کو صاف کرتا، فاسد مواد کو خارج کرتا، بلغم کو کم کرتا اور جسم میں موجود زہریلے اثرات کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تازہ پتے مسکنِ درد اور محلل ہیں، یعنی درد میں کمی اور ورم کو تحلیل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ خشک پتوں کا سفوف جالی اور مجفف ہوتا ہے، جو پرانے اور خراب زخموں کو صاف کر کے نیا گوشت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ جڑ کی چھال مقوی، قاطع بلغم اور مغشی اثر رکھتی ہے۔
استعمالات:
https://hakeems.pk/user/index.php
دودھ کو داد، گنج اور بواسیری مسوں پر لگانے سے فائدہ پہنچتا ہے۔ بلغمی امراض، ضیق النفس، دمہ اور وجع المفاصل میں موادِ فاسدہ کے اخراج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سانپ اور بچھو کے کاٹے ہوئے مقام پر لگانے سے زہر کے اثر کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
پتے جوڑوں کے درد اور ورم پر گرم کر کے باندھے جاتے ہیں۔ پتوں کا نچوڑ کان کے درد اور بعض اوقات بہرے پن میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ خشک پتوں کا سفوف پرانے اور خبیث زخموں پر استعمال کیا جاتا ہے۔
جڑ کی چھال بطور جوشاندہ گنٹھیا، بعض جلدی امراض اور بلغمی بیماریوں میں استعمال کی جاتی ہے۔
پھول معدہ کو تقویت دیتے ہیں، کھانسی اور ضیق النفس میں شاملِ نسخہ ہوتے ہیں اور روغن کی صورت میں مالش کے لیے استعمال ہو کر کمر درد اور جوڑوں کے درد میں فائدہ دیتے ہیں۔
احتیاط:
https://hakeems.pk/user/index.php
آکھ نہایت تیز اور قوی اثر رکھنے والا پودا ہے۔ اس کا غلط یا زیادہ مقدار میں استعمال معدہ اور آنتوں میں شدید خراش پیدا کر سکتا ہے۔ حاملہ خواتین کے لیے یہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کا استعمال ہمیشہ مستند حکیم یا ماہر معالج کے مشورے سے کرنا چاہیے۔
No comments found.